نئی دہلی،24/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی اور پنڈت دین دیال اپادھیائے کی موت کی تحقیقات کے لیے مرکزی حکومت فی الحال کسی کمیشن کا قیام نہیں کرے گی۔حکومت نے کہا ہے کہ ان رہنماؤں کی مشتبہ موت کی تحقیقات کے لئے ابھی کسی کمیشن کی تشکیل کرنے کی تجویز نہیں ہے۔سابق وزیر اعظم شاستری کی 11 جنوری 1966 کو تاشقند، شیاما پرساد مکھرجی کی 23 جون 1953 کو سری نگر اور دین دیال اپدھیای کی 11 فروری 1968 کو پراسرار حالات میں موت ہو گئی تھی۔لال بہادر شاستری کی موت 10 جنوری 1966 کو روس کے تاشقند میں پاکستان کے ساتھ امن معاہدے کے محض 12 گھنٹے بعد 11 جنوری کو اچانک ہوئی تھی۔ان کی موت گرہ آج بھی سلجھی نہیں ہے۔’جے جوان، جے کسان‘ کا نعرہ دینے والے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے اپنی مکمل زندگی ملک کے لئے وقف کر دی تھی۔ان کی پیدائش 2 اکتوبر 1904 کو اترپردیش کے مغل سرائے میں ہوئی تھی۔ان کے والد کا نام منشی شاردا پرساد شریواستوتھا، جو پرائمری اسکول میں استاد تھے۔وہیں دین دیال اپادھیائے کی لاش 11 فروری 1968 کو دین دیال اپادھیائے سٹیشن (پہلے مغل سرائے ریلوے اسٹیشن) کے پاس ملی تھی۔بتایا جا رہا ہے کہ 12 فروری 1968 کو نئی دہلی میں بھارتیہ جن سنگھ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہونی تھی۔اسی دوران پٹنہ میں بہار صوبہ بھارتیہ جن سنگھ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ بھی ہونے والی تھی،لہذا بہار پردیش کے جن سنگھ کے اس وقت کے تنظیم وزیر اشونی کمار نے جن سنگھ کے صدر پنڈت دین دیال اپادھیائے سے میٹنگ میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔اس کے لئے ان کو 10 فروری کو فون کیا گیا تھا۔ان کی موت کی وجہ کی تصویر اب تک واضح نہیں ہو پائی ہے، اگرچہ ان کی موت کو لے کر طرح طرح کی قیاس آرائی کی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ 23 جون 1953 کو شیاما پرساد مکھرجی کی جموں و کشمیر میں مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھی۔ابھی تک ان کی موت معمہ بنی ہوئی ہے۔ان کی پیدائش مغربی بنگال کے دارالحکومت کلکتہ میں 6 جولائی 1901 کو ہوئی تھی،وہ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی تھے۔سال 1977 میں بھارتیہ جن سنگھ کا جنتا پارٹی میں انضمام ہو گیا تھا۔ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے والد سر آشوتوش مکھرجی بنگال کے ایک معروف شخص تھے۔ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے کلکتہ یونیورسٹی سے گریجویشن اور انگلینڈ سے بیرسٹری پاس کرنے کے بعد کلکتہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے تھے،وہ جواہر لال نہرو کی کابینہ میں صنعت اور فراہمی وزیر بھی رہے،اگرچہ جواہر لال نہرو سے اختلافات کی وجہ سے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔